وحدت اسلامی
October 27, 2020
عظیمِ لطفِ الٰہی :
ربیع الاول کا مہینہ اس اعتبار سےگرانقدر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت اسی مہینے میں ہوئی ہےاور یہ مہینہ رسول اللہﷺ کی ذات کے ساتھ منسوب ہےاس لیے اس کے اپنے تقاضے ہیں ۔ ایک تو رسول اللہ ﷺ کی ذات سےاظہار عقیدت ہے جو عموماًکیا جاتا ہے مگر بعض مسالک ایسا نہیں کرتے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ہستی اور ذات کے بارے میں مسلمان تقسیم ہوگئے ہیں اور خصوصاًکئی فرقے میلاد رسولﷺ پر بنے ہیں ۔ ایک فرقہ وہ ہے جس کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا میلاد، جشن، عقیدت، منقبت ،نعت اور تعریف سب کچھ ممنوع ہے۔ایسے تفکر والے اپنے آپ کو اُمت رسول اللہﷺ بھی کہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ سب کچھ بدعت ہے اور جائز نہیں ہے۔ دوسرا فرقہ یہ ہے کہ جو میلاد اور رسول اللہ ﷺ کی ذات سے عقیدت کو جائز سمجھتے ہیں لیکن رسول اللہﷺ کے لیے یہ سب کچھ نہیں کرتے۔ یہ باقی اہل بیتؑ کے لیے سب کچھ کرتے ہیں مثلاً مولا علیؑ کی ولادت کا جشن ہو تو پھر پور مناتے ہیں امام حسینؑ کا جشن ولادت ہو پھرپور مناتے ہیں اسی طرح امام عصرؑ کی جشن ولادت ہو تو بھرپور مناتے ہیں لیکن اگر رسول اللہ ﷺ کی جشن ولادت ہو تو خاموش رہتے ہیں یا اگر کوئی اہتمام کرتے بھی ہیں تو بہت ہی کم رنگ اور مدہم سا کام کرتے ہیں جیسے ان کے اوپر کوئی بوجھ پڑ گیا ہےاور ایسا کوئی نامناسب کام کریں گے ۔ جبکہ سب سے زیادہ اولیٰ عقیدت و احترام کے لحاظ سے بھی اورتعریف و ثناء کےلیے بھی شخصیت ِ گرامی رسول اکرم ﷺ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو کچھ دیا ہے یہ سب اسی ذات کے صدقے سے ہے ۔ مومنین کو اہل بیت کی نعمت رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے ملی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے صحابہ کرام کسی مقام پر پہنچے ہیں ، قرآن کریم بھی رسول اللہ ﷺکی وجہ سے ہمارے پاس آیا ہے اور ہدایت بھی رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے جس فرقے کے پاس بھی جو کچھ ہےوہ سب رسول اللہ ﷺ کی رہین ِ منت ہے۔ انسان کو نعمتوں کا قدردان اور شکرگزار ہونا چاہیےاور قرآن کریم فرمارہا ہے کہ آپ کے اندر سب سے بڑی نعمت رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے۔
قَدْ مَنَّ اللَّـہ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيہِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِھِمْ
ان کے اندر سے رسول مبعوث کیا جواللہ کی سب سے بڑی منت ،احسان اور نعمت ہے۔ (سورہ آل عمران آیہ164)
جب نعمت سب سے بڑی ہے تو اسے مدنظر بھی سب سے بڑا رکھنا چاہیے لہٰذا اتنا اہتمام کم از کم ان مسالک کے اندر تو ہونا چاہیے جو اس کو جائز اور لازمی سمجھتے ہیں ۔ مومنین جب آل رسول کے لیے اہتمام کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کے لیے کیوں نہیں کرتے اوررسول اللہ ﷺ کو کیوں دوسرے مسالک کے سپرد کردیا ہے؟ فقط ایک مسلک ہےجو رسول اللہ ﷺ کا میلاد صرف ربیع الاول میں ہی نہیں بلکہ سارا سال کرتے ہیں ان کی وجہ سے سب کا بھرم بنا ہوا ہے ۔ یہ پوری دنیا میں میلاد بھرپور طریقے سے مناتے ہیں اور اس کا حق ادا کرتے ہیں ، چراغاں کرتے ہیں ، خوشیاں مناتے ہیں ، محافل سجاتے ہیں ، نعت و منقبت ہوتی ہے۔ ہرچند اس کے اندر بھی رسوماتی اور ظاہری رنگ غالب ہوتا ہےمگر جو بھی عملی کام وہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے باقی مسلمین کی عزت رہ جاتی ہےکہ اپنے نبی اور رسولﷺ کا احترام کرتے ہیں ۔ تشیع کو اس میں پیش پیش ہونا چاہیےکیونکہ تشیع مذہب ہی عقیدت و محبت کا ہےاور تشیع کو زیادہ رسول اللہ ﷺ کا قدردان ہونا چاہیے چونکہ تشیع کا سب سرمایہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہے۔ اس بات سے تشیع کا حق بنتا ہےکہ وہ دوسرے تمام مسلمین سے آگے بڑھ کر امامت کریں اور اس مسئلے میں سبقت لیں ۔ انشاء اللہ یہ ماحول پیدا ہو ۔شیعہ کہیں بھی ہوں وہ عقیدت کا اپناسارا جذبہ محرم و سفر میں نثار کر بیٹھے ہیں اور چونکہ ربیع الاول محرم وصفرکے بعد آتا ہے اس میں ان کے پاس شاید کچھ بچتا نہیں ہے اور یہ ظاہراً خالی خالی سے لگتے ہیں ۔جبکہ الٹ ہونا چاہیے کہ محرم و صفر کی عقیدت کا جذبہ زندہ رکھیں چونکہ محرم و صفرنے درحقیقت محبت و عقیدت کو جلا دی ہےاور ابھارا ہے جوکہ ربیع الاول میں اوج پر پہنچی ہوتی ہے۔لہٰذا اس محبت کا بھرپور طریقے سے اظہار کرنا چاہیے۔
الحمد اللہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور میں میلادِ رسول اللہ ﷺ کا سلسلہ پہلے سے جاری ہےاور جب جامعہ نہیں تھاتب بھی ربیع الاول کے اندر اہم امور طالب علمانہ توفیق کی حد تک ادا ہوتے رہے ہیں جس میں کافی مومنین اور جوانان بھی شریک تھے جامعہ بننے کے بعد مختلف شہروں میں جاکر میلاد و جشن کے محافل میں شرکت کی توفیقات کم ہوگئیں ۔
ایّامِ وحدت و ہدیۂ وحدت :
رسول اللہ ﷺ کی ولادت سے دو دن بارہ اور سترہ ربیع الاول منسوب ہیں ۔ تاریخی طور پر ہر پیشوا اور معصومؑ کی ولادت و شہادت یا وفات کے حوالے سے یہ اختلاف پایا جاتا ہے۔عموماًبارہ ربیع الاول اہل سنت مناتے ہیں اور شیعہ سترہ ربیع الاول مناتے ہیں بعض شیعہ تو بارہ کو بھی کچھ نہیں کرتے اور سترہ کو بھی چپ ہی ہوتے ہیں فقط چھٹی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ بارہ اور سترہ دونوں ہی رسول اللہ کے لیے روز ِ ولادت ہیں ۔ شیعہ علمامیں سے مرحوم کلینی ؒ ، شیخ طوسی ؒ اور چند دوسرے بڑے بزر گ علماکا اعتقاد یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول ولادت ِ رسول اللہ ﷺ ہے۔ شیعہ کے اندر مشہور سترہ ربیع الاول ہے لیکن چند محقق اور درجہ اول کےفقہااور مورخین کا نظریہ یہ ہے کہ بارہ کو ولادت ِ رسول اللہ ﷺہے۔ باقی سب مسلمین بھی بارہ کو ہی ولادت ِ رسول اللہ ﷺ سمجھتے ہیں اس لیے بارہ سے سترہ پورا ہفتہ ہی سیرت ِرسول اللہ ﷺ کا ہفتہ ہو، جشن میلاد رسول اللہ ﷺ کا ہفتہ ہواور ا س میں خصوصاًامام امت امام راحل ؒ نے جو خلاقیت دکھائی ہےجس طرح دوسرے بہت سے خلاقی کام انجام دیے ہیں ان میں سے یہ تھا کہ بارہ سے سترہ ربیع الاوّل کوامت اسلامیہ کی وحدت کا ہفتہ قرار دیا ہے۔ اس لیےجہاں پر میلاد کا جشن اور عقیدتوں کا اظہار ہوتا ہے وہیں پر اُمت رسول اللہ ﷺ کی وحدت کے لیے بھی کام کیا جائے۔
یہ بات کئی جگہ عرض بھی کی ہےجب محافل ِ میلاد اور ہفتہ وحدت شہر شہر جاکر منعقد کیا کرتے تھےاس زمانے میں ہر مجمعے میں جو بات تکراراًکی ہے وہ یہ تھی کہ’ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ جیسی نعمت دے کر ہم پر احسان کیا ہےاور ہم روز میلاد بہت خوش ہوتے ہیں اور انہی ایام میلاد ِ رسول اللہ ﷺمیں ہم بھی کوئی ایسا کام کریں کہ رسول اللہ ﷺ بھی خوش ہوں ‘۔ آپ ﷺ کی خوشی کے لیے بھی کوئی قدم اٹھائیں اور سب سے زیادہ اہم قدم جس سے یقین و وثوق کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہؐﷺ کو اس سے زیادہ خوشی کسی چیز کی نہیں ہوگی وہ اُمت ِ رسول کی آپس میں وحدت ہے۔بارگاہ ِ رسالت میں یہ ہدیہ ہم پیش کریں جس طرح اللہ تعالیٰ نےیہ تحفہ مومنین کو دیا ہےاور اس نعمت کا شکر اور جواب اس طرح سے ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ؐکے طفیل دشمنوں کے درمیان وحدت ہوئی جیسے مدینہ کے اندر اوس و خزرج رہتے تھے
وَاذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّـہِ عَلَيْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا
تم دشمن تھے اور اللہ کی نعمت شامل حال ہوئی توآپس میں بھائی بن گئے۔ (سورہ آل عمران آیہ 103)
وہی نعمت ہمیں بھی میسر ہے تو پھر کیوں نہ ہم بھی دوریاں ، دشمنیاں اور کدورتیں ختم کر کےبھائی بنتے۔سب مسلمین کے ساتھ بھائی بنے بغیر ہم اگر عقیدت و محبت رسول اللہ ؐ کا دعویٰ کریں تو وہ جھوٹا ہوگا۔ اگر اطاعت کا دعویٰ کرنا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی شرط یہ ہے کہ مسلمین اپنے اندر وحدت پیدا کریں ۔
طلوعِ وحدت:
مسلمانوں کے اندر گزشتہ تیس چالیس سال فتنوں کا دور گزرا ہے ۔ یہ دور تفرقے ، فرقہ واریت اور مسلمانوں کے اندر بحرانوں کا دور تھا جو بحران مسلمانوں کے دشمنوں نے شروع کیے بعض مسلمان ان کا حصہ بن گئے اس طرح یہ چند دہائیاں بہت ہی افسوسناک گزری ہیں ۔ اس کے بعد الحمداللہ خصوصاً پاکستان کے اندر یہ فضا وحدت کی طرف مائل ہوگئی ہےاب کافی حد تک مختلف مسالک و مذاہب میں یہ گنجائش نظر آرہی ہے۔ہرچندمتعصب بھی موجود ہیں مگر سنجیدہ ، بابصیرت اور باتقویٰ علما اپنے مسلک کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے وحدت کی اس راہ پرکام کر رہے ہیں اور ان کے کوششوں کا اثر بھی ہورہا ہے۔ مثلا ً وہ علما جو وحدت کے لیے کوشاں ہیں ان کے اپنے مسلک کی طرف سے بھی انہیں تکفیر کردیا گیا ہے۔ اگر ایک سنی عالم شیعہ کے ساتھ وحدت کی بات کرتا ہےتو ان کے مسلک کا ایک مفتی اس کی تکفیر کردیتا ہےایسی بلائیں ابھی موجود ہیں لیکن بابصیرت علما اور مومنین میدان میں آئیں اور وحدت کی فضا قائم کردیں تو یہ زیادہ مفتی جن کے اندر مفت کا زیادہ مال بھرا ہوا ہےیہ سب میدان سے باہرنکل کر اپنے کند خانوں کے متعصب ماحول میں ہی جاکر محصور ہوجائیں گے اور ان سے قومی میدان چھن جائے گا۔ یہ کام مومنین کی کوششوں اور فعالیت سے ہونا چاہیے۔ انشاء اللہ۔ ہمیں اللہ کی اس نعمت پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس وقت بہت گنجائش ہےجس طرح اللہ کا وعدہ ہے کہ :
سَيَجْعَلُ اللَّـہُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
ہم سختیوں کے بعد آسانیاں بھی لاتے ہیں
پاکستان میں تیس چالیس سال کی سختی کے بعداللہ تعالیٰ نے ابھی یہ ماحول فراہم کیا ہےلیکن اس کے قدر دان ہوں گے تو یہ سلسلہ جاری رہے گا ورنہ پھرمتعصبین آکر اس کو خراب کردیں گے۔
اسلام دشمنوں کے فتنے
ربیع الاول کا مہینہ وحدت کا مہینہ ہے جس میں اُمت کے اندر وحدت کے لیے رغبت پہلے سے زیادہ نظر آتی ہےاور جہاں بڑے جید علما ء اس کے اندر فعال ہیں ساتھ ہی دشمنِ اسلام ،دشمنِ امت ِ اسلامیہ اور دشمنِ تشیع بھی اپنے کام سے غافل نہیں ہےبلکہ وہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کےساتھ تفرقہ پھیلانےمیں مصروف ہے۔ اس کی شیطنت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف جگہوں سےگستاخی ہتاکی بےحرمتی اور توہین کی ایک لہر کی صورت میں اٹھا ہے۔ایک گستاخ ہندوستان کے اندر پیدا ہوا جس نے رسول اللہ ﷺ کی اور ناموس ِ رسالت کی بےحرمتی کی اور حد کردی۔ اس کا یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان سے بے حرمتی کرنے والا فقط ہندوستان سےتعلق رکھتا ہے اور پاکستان میں بیٹھا کوئی گستاخی کرنے والا ہے تو اس کے تعلقات پاکستان سے ہیں ۔یہ سب ایک عالمی نیٹ ورک ہے اور دشمن ان کے ذریعے سے ایسے کام کرواتا ہے۔ دشمن بہت ساری سازشوں سے وہ کام نہیں کرسکتاجو وہ بے حرمتی اور گستاخی کے عمل سے حاصل کرنا چاہتا ہےچونکہ بےحرمتی اور گستاخی سے مسلمانوں کے اندر اشتعال پیدا ہوتا ہے مثلاً ہندوستانی ملعون نے زوجہ رسول اللہ پر جو فلم بنائی ہےاس نے بہت ہی تباہ کن قدم اٹھایا ہےکہ امت اسلامی کے اندر ایسا خون ریز سلسلہ شروع ہوجائےکہ سب مٹ جائیں ۔ اس خبیث نے جو حرکت کی ہے یہ خباثت پچھلے تمام خباثتوں سے بڑھ کر ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی اس خباثت کی سزا دنیا میں ہی دے گا اور مومنین کے ہاتھوں دے گا۔ انشاء اللہ اسی طرح کےہتاک اور گستاخ پاکستان کے اندر بھی پیدا ہوجاتے ہیں ابھی چند دن پہلے سندھ میں ایک ملعون نے امام عصرؑ کی بارگاہ میں گستاخی کی ہےاسی طرح کی گستاخی پہلے بھی ایک ملعون نے کی تھی جو فی النار اور واصل جہنم ہوا۔ یہ انفرادی گستاخ اپنے طور پر نہیں ہوتے بلکہ تیار کیے جاتےہیں ۔ ایک گستاخ ہٹتا ہے تو دوسرا گستاخ اس کے پیچھے تیار کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا ہو۔ حساس ترین موضوع کی بے حرمتی کردیتے ہیں ظاہراً سنیوں کو اشتعال دلانے کےلیے ہندوستان کے گستاخ نے زوجہ رسولﷺ کی بے حرمتی کی تاکہ شیعوں کے ساتھ دشمنی ہو ، یہ ہندی ملعون نے کیا اور سندھی ملعون اس کے مقابلے میں کھڑا ہوااور اس کا مقابلہ کیا۔ سندھی ملعون نے امام عصر علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کی تاکہ شیعہ بھڑکیں اور یہ میدان میں آئیں ۔ یہ دونوں کام توازن کے ساتھ ہو رہے ہیں کہ ایک اس طبقے کو بھڑکا تا ہےاور ایک اس طبقے کو بھڑکاتا ہے۔
گستاخ اور ہتاک گروہ کے ایسے اعضاء بھی ہیں جنہوں نے ولی امر مسلمین اور نائب ِ امام زمان کی بے حرمتی کی۔اسی طرح کی بےحرمتی عراق کے اندر جاری ہیں ابھی حالیہ مظاہرےہورہے ہیں ان میں بھی یہی گروہ مصروف ہے۔بظاہر یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں بےروزگاری اور مہنگائی ہےاس لیے مظاہرے ہورہےہیں ۔ اگر مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہیں تو مقدسات دین کے خلاف آپ کیوں نعرے لگاتے ہیں ۔ ان مظاہروں کے اندرآئمہ علیہ السلام کی توہین ، کربلا کے حرم کی توہین ، نجف کے حرم کی توہین اور سامرہ و کاظمین کی توہین ہو رہی ہے ۔ اصل مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ توہین کریں اور باقی مشتعل ہو کر ان کے جواب میں آئیں اور یہ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں ۔ مثلاً ابھی ہم دیکھیں کہ اگر کوئی توہین کرتا ہے تو اس خبیث ملعون کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے شہر کی ٹریفک کو بند کر دیتے ہیں ۔ ملعون بیٹھا ہوا ہے اور یا پولیس کی کسٹڈی میں یا مافیا کی کسٹڈی میں محفوظ بیٹھا ہوا ہے یا اپنے بڑے آقائوں کے زیرِ سایہ بالکل محفوظ ہوتا ہے ۔ ہندی خبیث کو کسی نے کچھ بھی نہیں کہا لیکن اس کے اشتعال میں آکر گاڑیاں جلا دیتے ہیں اور روڈ بلاک کر دیتے ہیں ۔اگر آپ کو جذبہ آتا ہے تو خود اس ملعون پر کیوں حملہ ور نہیں ہوتے ؟ اس خبیث کو سزا دو اس کی جگہ عوام کو کیوں سزا دیتے ہو۔ دشمن چاہتا ہی یہی ہے ۔ اسی طرح کربلا کے اندر ہورہا ہے ۔ توہین کا جواب توہین کرنے والوں کو نہیں دے رہے وہ محفوظ ہیں ۔ ان کو کوئی کچھ نہیں کہے گا، جوابی کاروائی والے نکلیں گے وہ بغداد کو جلا دیں گے یا کوئی اور محلہ جلادیں گے اس طرح یہ اِس طرح انتقام لے رہے ہیں ۔یہ لو گ لوگوں کے گھر جلانے سے اس خبیث کی خباثت کا جواب دے رہے ہیں ۔
گستاخوں کی سزا:
تمام مذاہبِ اسلامی میں متفقہ بات ہے کہ مرتدکو سزا دیتے کے لیے کسی قاضی ،کسی حکم اور کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جو امام عصر علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے ہیں اور اہلِ بیت کی توہین کرتے ہیں ان سے بڑے مرتد اور کون ہوں گے ۔بجائے اس کے کہ پریس کلب میں جاکر بھڑاس نکالو خود اس خبیث کا کام تمام کروتاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ یہ کام کرنے والے مافیا اور وہ لابی جو پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں ان کا گریبان پکڑوتاکہ یہ منحوس شجرہِ خبیثہ ختم ہو جائے ۔ وہ ان مہروں سے زیادہ وہ خطرناک ہیں ۔یہ جواب یوں بنتا ہے ۔ میں کسی غیر قانونی کا م کا نہیں کہتا ان کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کریں اور ان کے خلاف قانونی قدم اٹھائیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ قانون دو ہیں ایک حکومتی و ملکی قانون ہے مثلاً پاکستان کا قانون ہے اس قانون کے مطابق بھی یہ مجرم ہیں ۔پاکستان کے قانون اور اس قانون کی روشنی میں خصوصاً ایک اور بیانیہ جو بیانیہ ِ پاکستان یا ’پیغام پاکستان‘ کے نام سے ہے جو اٹھارہ سو علماء اور پاکستان کے صدر کے دستخط سے 2018میں تدوین ہوا اور پیش کیا گیا ہے ۔یہ بیانیہ آئینِ پاکستان کی روشنی میں تدوین ہوا ہے اور ایک قانون اور سند کی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان میں ہر فرقہ وارانہ قدم جرم ہے ۔ فرقہ واریت جرم ہے ، فرقہ وارانہ کتاب جرم ہے ، فرقہ وارانہ بیان جرم ہے ، فرقہ وارانہ اجتماع جرم ہے ، فرقہ وارانہ تعلیم جرم ہے ، مذہبی منافرت پھیلاناجرم ہے ۔ کسی کے مذہب کی توہین کر کے آپ منافرت پیدا کرو یہ جرم ہے ۔ مقدسات کی بے حرمتی جرم ہے ۔ یہ صراحت کے ساتھ اس بیانیہ کا مضمون ہے کہ جو بھی یہ کرے گا یہ اس کا جرم ہے ۔ تمام فرقے اس پر متفق ہیں ۔ اس پر دستخط کرنے والے اٹھارہ سو علماء تمام فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ شیعہ بھی ہیں ، سنی ،دیوبند، اہلحدیث، حنفی ، بریلوی ان کے اندر بنی ہوئی مختلف شاخیں اور ان کے نمائندے بھی اس کے اندر شامل ہیں ان سب نے متفقہ یہ کہہ دیا ہے کہ یہ جرائم ہیں ۔آئینِ پاکستان کے مطابق توہین و گستاخی جرم ہے۔ ملکی قوانین کے کارندے ، اہل کار ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ ان کے خلاف کاروائی کریں ۔ مومنین ان کو متوجہ کریں ، شکایت کریں اور بعض جگہ سرکاری اہلکار کاروائی کرتے بھی ہیں اگر ان کے اندر ضمیر ہو۔ بعض اوقات پیسے لے لیتے ہیں اور کاروائی نہیں بھی کرتے ۔ قانون کا ایک بڑا منبع عدالتیں ہیں ۔ جب یہ مجرم عدالتوں میں پہنچتے ہیں تو ان ججوں کو چاہیے کہ ملکی قانون کے مطابق انہیں سخت سے سخت اور عبرت ناک سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی ہتاک و گستاخ پیدا نہ ہو ۔یہ قانونی ادارے کبھی اپنے وظیفے پہ عمل کرتے ہیں اور کبھی نہیں کرتے خصوصاً عدالتیں نہیں کرتیں ۔ عدالتیں ہر بڑے مجرم کو باعزت بری کر دیتے ہیں کیونکہ یہ خود صاحب ِ عزت نہیں ہیں اور مجرم ہیں اس وجہ سے مجرمین ان کے سامنے آکے بری ہو جاتے ہیں ۔
گستاخوں کو اللہ کی سزا:
گستاخوں کے لیے ایک ملکی قانون ہے جو ہماری پارلیمنٹ یا قانون ساز اسمبلی نے بنایا ہوا ہے اور ایک قانون وہ ہے جو اللہ نے بنایا ہوا ہے اور وہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ قانون ہر پاکستانی کے لیے ہے جو مسلمان ہے اورہر غیر پاکستانی کے لیے بھی جو مسلمان ہے اور وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے ۔ یہ قانون اللہ کا ہے اور اس کے اہل کار اور آفیسر تمام مسلمین ہیں ۔ یہ قانون کسی عہدے ، سیکرٹری کا محتاج نہیں ہے اور اس کے لیے کوئی عدالت نہیں ہے ۔ امر بالمعروف ہر مسلمان پر واجب ہے اور نہی عن المنکر ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جن کے سامنے منکرات کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور وہ منکرات سے نہی نہیں کرتے ، ان سے روکتے نہیں اور منع نہیں کرتے ۔روایت کے اندرتصریح اور وضاحت ہے کہ نہی عن المنکرکرو اور منکرات کو روکو۔ اُمت کے اندر فتنہ ڈالنا، تفرقہ، کدورتیں اور منافرتیں ڈالنا، بے حرمتی کرنا، گستاخی کرنا سب سے بڑی منکرات ہیں کیونکہ ان کا نتیجہ بہت غلط نکلتا ہے اور وہ فساد ہے اِس وجہ سے یہ بنیادی منکرات ہیں ۔اِن کے مقابلے میں پوری ملت قیام کرے ، ہر مسلمان قیام کرے ۔ روایت کے اندر ہے کہ اگر کوئی کسی منکر کو دیکھے ، کوئی اور وہ انجام دے رہا ہو اور یہ کھڑا ہو کر خاموش تماشائی بن کر اسے دیکھ رہا ہو تو اللہ اس تماشائی کو اسی مجرم کے ساتھ محشور کرے گا۔لوگ مجرم نہ بنیں ، منکرات کو دیکھ کر خاموش تماشائی بن کر منکرات کا حصہ نہ بنیں ۔آپ فوراً اس کو زبانی نصیحت کرو، اس کو تذکر دو، اگر نہیں رکتا تو دین نے تمام مومنین کوامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اختیار دیا ہوا ہے اور یہ اختیار کو ئی سلب نہیں کر سکتا، کوئی حکومت، نہ پارلیمان نہ کوئی اورادارہ ۔ جو اس اختیار سے روکتا ہے وہ خود مجرم ہو گا۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ تمام امت اور مومنین کا فریضہ ہے کہ آپ ان کے سامنے قیام کرو۔امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کی دلیل کی طورپر یہ بیان فرمایا کہ :
اُرید عن امربالمعروف و انہی عن المنکر
جس امام کو روتے اور پیٹتے ہو وہ امام علیہ السلام فاسد ترین اور ہتاک ترین شخص کے خلاف نہی عن المنکر کرنے گیا ۔ ہتاکی اور بے حرمتی یزید اور بنو اُمیہ نے سکھائی ہے ۔ یہ جتنے گستاخ اور ہتاک انسان ہیں یہ نسلِ بنو اُمیہ ہیں ۔ جو جس نام سے بھی ہتاکی کرے وہ بنو اُمیہ میں سے ہے ۔اگر امام حسین علیہ السلام کے ماننے والے ہوتو اُٹھو، ان کو روکو، ان کو زبانی تذکر دو، نصیحت کرو، ان کو سمجھائو، ان کے بانیوں ، مددگاروں ، سپورٹروں کو سمجھائو اور اگر یہ نہیں رُکتے توان کے متعلق قانون ِ خدا ہے کہ نہی عن المنکر کرو اور انہیں روکو۔ صالحین اکٹھے ہوں انہیں کہیں کہ ہم آپ کو یہ منکر نہیں کرنے دیں گے ، یہ آگ اور یہ تباہی نہیں پھیلانے دیں گے ۔اگر سب تماشائی بن کر بیٹھے رہے تو سارے مجرم ہو جائیں گے ۔ اللہ کا عذاب آتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مجرم نے اتنابڑا گناہ کیا اور عذاب ان پر بھی آیا جنہوں نے اس جرم کے اندر شرکت نہیں کی ان کا جرم یہ تھا کہ بیٹھے ہوئے دیکھتے رہے ۔ اگر یہ بے حرمتیاں جاری رہیں تو سب پر عذاب آئے گا اور ان تماشائیوں پر پہلے آئے گا اور یہ بھی اس کے اندر ڈوب جائیں گے ۔ یہ دوسرا قانون ہے۔
ملکی قانون کے مطابق بھی چارہ جوئی ہونی چاہیے یعنی قانونی اقدام اور اگر ملکی قانون والے نہیں کرتے تو اللہ کے قانون کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں جس کے اہلکار سارے مومنین ہیں ۔ انشاء اللہ یہ سارے فتنے اُمت کے اندر سے ختم ہوں اور اُمتِ رسول اللہ ﷺا اتحاد، وحدت اور بھائی چارے کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کی راہ پر چل سکیں۔

رسمی ویبسائٹ برائے اطلاعات - جامعہ عروۃالوثقی   |  |